
خود کفالت
کاشت کاری و وسائلِ رزق
حلال، باعزت، سادہ اور باہمی تعاون پر قائم معیشت

زمین سے جڑا ہوا معاش
دارالسلام کی معیشت زمین، محنت اور مقامی پیداوار سے وابستہ ہوگی۔ اہلِ بستی اپنی خوراک اور روزمرہ ضروریات کا قابلِ ذکر حصہ خود پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔
کاشت کاری و وسائلِ رزق
کچن گارڈننگ
خواتین، مردوں اور بچوں کو کچن گارڈننگ سکھائی جائے گی۔ ہر گھر یا مقررہ اجتماعی جگہ پر سبزیاں، جڑی بوٹیاں اور روزمرہ استعمال کی فصلیں اگانے کا انتظام ہوگا۔
کھیتی باڑی
گندم اور دوسری ضروری فصلوں کی کاشت کے لیے دستیاب کھیت استعمال کیے جائیں گے۔ آب پاشی کے لیے نہری پانی اور ذاتی ٹیوب ویل سے فائدہ اٹھایا جائے گا۔
مویشی پروری
مرغیاں، خرگوش، بکریاں، بھیڑیں اور گائے پالی جائیں گی۔ اس سے دودھ، گوشت اور انڈوں کی مقامی ضرورت پوری کرنے میں مدد ملے گی۔ جانوروں کی نگہداشت اہلِ بستی کی عملی تربیت اور روزگار کا ذریعہ بھی ہوگی۔
نامیاتی پیداوار
خوراک کی تیاری میں قدرتی اور نامیاتی طریقوں کو ترجیح دی جائے گی۔ سبزیوں، اناج، دودھ اور دوسری مصنوعات کی صفائی، معیار اور صحت بخش پیداوار کا خیال رکھا جائے گا۔
چھوٹی صنعت اور مقامی کاروبار
بستی میں چھوٹی مشینری نصب کرکے زرعی اور نامیاتی مصنوعات تیار کی جائیں گی۔ ان مصنوعات کو بستی کی ضرورت پوری کرنے کے ساتھ بیرونی منڈی میں بھی فراہم کیا جاسکے گا۔ کچھ افراد ان منصوبوں میں ملازمت کریں گے، کچھ اپنی مہارت پیش کریں گے اور صاحبِ استطاعت افراد سرمایہ لگا کر کاروبار قائم کرسکیں گے۔
درخت لگانے کی ذمہ داری
ہر رہائشی درخت اور پودے لگانے میں حصہ لے گا اور اپنے لگائے ہوئے درختوں کی نگہداشت کرے گا۔ پھل دار اور سایہ دار درخت بستی کی خوراک، خوب صورتی اور ماحول میں بہتری کا ذریعہ بنیں گے۔
باہمی تعاون پر قائم معیشت
اہلِ بستی اپنی صلاحیت، ہنر، سرمایہ اور محنت کے مطابق معاشی نظام میں حصہ لیں گے۔ مقصد ایسا معاش پیدا کرنا ہے جو حلال، باعزت، سادہ اور اجتماعی ضرورتوں سے ہم آہنگ ہو۔
